العلماء کی معاشرے میں ضرورت کیوں ہے؟

معاشرے میں بڑھتی لادینیت اور فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قرآن و سنت سے تمسک ضروری ہے۔ جس طرح دیگر علوم و فنون میں ماہرین سے رجوع کیا جاتا ہے، اسی طرح دین کے ماہر و شناسا علمائے کرام ہیں، کیونکہ وہ انبیاء کے وارث ہیں۔ علماء اور عوام کے درمیان حائل خلیج کو کم کرنا اور ان کا تعلق مضبوط بنانا لجنۃ العلماء کا بنیادی مقصد و مشن ہے۔

اسی مقصد کے لیے علماء کے ساتھ تعاون، ان کی علمی خدمت اور دفاع کو نصب العین بنایا گیا، اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے علماء فتویٰ کونسل قائم کی گئی تاکہ جدید و قدیم پیش آمدہ مسائل کا مستند شرعی حل پیش کیا جا سکے۔

العلماء کا منہج

عقائد، عبادات اور معاملات کے شرعی اصول تبدیل نہیں کیے جا سکتے، البتہ بدلتے وقت کے ساتھ شریعت کی تفہیم و تبلیغ کے لیے مؤثر وسائل استعمال کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے ویب، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مستند دینی علم کو زیادہ وسیع اور قابلِ رسائی بنانا اس پلیٹ فارم کے مقاصد میں شامل ہے۔

ہمارا ہدف گروہ بندیوں، تنظیموں اور جماعتوں کی تفریق میں الجھے بغیر علماء کی تعظیم و توقیر کو نمایاں کرنا، عوام کی دینی رہنمائی کرنا اور اہلِ علم و افتاء کو مشترکہ علمی خدمت کے لیے قریب لانا ہے۔

اہم علمی خدمات

  • مستند فتاویٰ اور روزمرہ سوالات کے جوابات
  • علمی و تحقیقی مقالات
  • علماء کے تعارف اور ان کی علمی خدمات
  • اردو، عربی، انگریزی اور سندھی میں دینی رہنمائی
  • اسلامی پوسٹ کارڈز، صوتی و بصری مواد اور مفید وسائل

اہلِ علم کے تاثرات

یہ فتویٰ کمیٹی قابلِ داد اور لائقِ تحسین ہے، اور اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ایک ایسی ضرورت کو پورا کر رہی ہے جس پر اس سے پہلے کام نہیں ہوا۔

فضیلۃ الشیخ حافظ عبد الرؤف سندھو رحمہ اللہ

علماء فتویٰ کونسل نے مختصر عرصے میں عظیم علمی، دعوتی، تحقیقی اور فلاحی کام کیا ہے، خصوصاً علماء اور عوام کے درمیان حائل خلیج دور کرنے اور انٹرنیٹ پر مستند رہنمائی پیش کرنے میں۔

فضیلۃ الشیخ محمد ادریس اثری حفظہ اللہ

اصل تعارفی صفحہ alulama.org پر ملاحظہ کریں